Saturday, 16 November 2013

ہٰذا ۔۔ باز آ

ہم دہشتگرد بھی ہیں کہ ایک دوسرے کی عبادت گاہیں خس و خاشاک کردیتے ہیں

 

ہم جھوٹے بھی ہیں  کہ واقعہ پر مصلحت پسندی نامی پینٹ کے کوٹ در کوٹ مارتے جاتے ہیں ہیں

 

ہم موقع پرست بھی ہیں کہ کرفیو کھلنے پہ اشیا خورد و نوش مہنگی کردیتے ہیں

 

آلو سو روپے

ایک انڈا  پچیس روپے

 

اور پھر ہم آسمان کی طرف منہ اٹھا کہ کہتے ہیں

 

اے اللہ ہم پہ رحم فرما کرم فرما فضل فرما

 

گھروں پہ بڑا بڑا لکھواتے ہیں

 

 ہٰذا مِن فَضلِ ربی

 

بابا کہتا ہے 

 

ہٰذا، ان کاموں سے باز آ

 

 

12 comments:

  1. really really well said !! Such tou yeh hai k khud se joot bolty bolty hum apni asliyat aur muqam bhool chukay hain .....

    ReplyDelete
    Replies
    1. اقبال کی شکوہ اور جواب شکوہ پڑھ لی جائے تو شاید ۔۔۔ ہم تو سب کچھ ہی بھول چکے ہیں

      Delete
  2. Replies
    1. شکریہ ۔ ویسے اس میں پتھیٹک لگا کیا آپ کو؟

      Delete
  3. یہ تو ہماری عادت ہے کہ ایسی مصائب میں قیمتیں گھر بیٹھیں دوگنی کردیتے ہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. دنیا بھر میں جب کہیں تہوار ہوتا ہے تو تاجر برادری احترام میں اشیا خورد و نوش کی قیمتیں کم کردیتے ہیں، مصائب کی صورت میں تو مفت ہوجاتی ہیں ۔۔ لیکن ہم نے تو نئے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں ۔۔

      Delete
    2. یہ ہمارے پرانے ریکارڈ ہیں اب تو ہم اُن ریکارڈز میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔

      Delete
    3. بہتری؟ جناب دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں ۔۔۔

      Delete
  4. baat to sach hai par baat hai ruswai ki

    ReplyDelete
    Replies
    1. رسوا ۔۔۔ وہ کیا ہوتا ہے؟ اگر رسوائی محسوس کرسکتے تہ یہ حرکتیں نہ کرتے۔۔۔

      Delete