ہٰذا ۔۔ باز آ
ہم دہشتگرد بھی ہیں کہ ایک دوسرے کی عبادت گاہیں خس و خاشاک کردیتے ہیں
ہم جھوٹے بھی ہیں کہ واقعہ پر
مصلحت پسندی نامی پینٹ کے کوٹ در کوٹ مارتے جاتے ہیں ہیں
ہم موقع پرست بھی ہیں کہ کرفیو کھلنے پہ اشیا خورد و نوش مہنگی کردیتے
ہیں
آلو سو روپے
ایک انڈا پچیس روپے
اور پھر ہم آسمان کی طرف منہ اٹھا کہ کہتے ہیں
اے اللہ ہم پہ رحم فرما کرم فرما فضل فرما
گھروں پہ بڑا بڑا لکھواتے ہیں
ہٰذا مِن فَضلِ ربی
بابا کہتا ہے
ہٰذا، ان کاموں سے باز آ
Zabardastttt
ReplyDeleteشکریہ بھائی ۔۔
Deletereally really well said !! Such tou yeh hai k khud se joot bolty bolty hum apni asliyat aur muqam bhool chukay hain .....
ReplyDeleteاقبال کی شکوہ اور جواب شکوہ پڑھ لی جائے تو شاید ۔۔۔ ہم تو سب کچھ ہی بھول چکے ہیں
DeletePathetic !!
ReplyDeleteشکریہ ۔ ویسے اس میں پتھیٹک لگا کیا آپ کو؟
Deleteیہ تو ہماری عادت ہے کہ ایسی مصائب میں قیمتیں گھر بیٹھیں دوگنی کردیتے ہیں۔
ReplyDeleteدنیا بھر میں جب کہیں تہوار ہوتا ہے تو تاجر برادری احترام میں اشیا خورد و نوش کی قیمتیں کم کردیتے ہیں، مصائب کی صورت میں تو مفت ہوجاتی ہیں ۔۔ لیکن ہم نے تو نئے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں ۔۔
Deleteیہ ہمارے پرانے ریکارڈ ہیں اب تو ہم اُن ریکارڈز میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔
Deleteبہتری؟ جناب دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں ۔۔۔
Deletebaat to sach hai par baat hai ruswai ki
ReplyDeleteرسوا ۔۔۔ وہ کیا ہوتا ہے؟ اگر رسوائی محسوس کرسکتے تہ یہ حرکتیں نہ کرتے۔۔۔
Delete