قارئین
چند عدد قبائل لیں
انھیں روس کیخلاف جہاد کے امریکی کوٹڈ چولہے پہ
ہلکی آنچ پہ چڑھادیں
پھر انھیں کارگل واقعہ تک پکاتے رہیں
اور امریکی اشارہ پہ جہاں 'چڑھایا" تھا،
وہاں سے اتار لیں
جب اس دوغلی پالیسی پہ وہ سیخ پا ہوکر آپ کو
بھوننا شروع کردیں تو آپ بات چیت کی پرت جمانا شروع کردیں
یہ عمل انھیں ٹھنڈا کرنے کے لیئے ہے، یاد رہے کہ
بات چیت کی پرت ایک دم ہی نہیں جمادینی، جب معاملات یکایک ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ہم
ڈالر کہاں سے کمائیں گے
یکدم ٹھنڈا نہ ہونے کے لیئے ان کے اوپر ڈرون اور
ایف سولہ حسب ذائقہ چھڑکتے رہیں
جی ہاں، ایک جانب بات چیت کی پرت، دوسری جانب
ڈرون آوری کرتےرہیں
تب تک جب تک قوم کی سمجھ میں نہیں آجاتا کہ
"اسے کھا کر
پینا ہے، یا پی کر کھانا ہے"
اور یوں تیار ہے
مذاکرات کدو
یاد رکھئیے
مذاکرات کا کدو، جب جب کٹے گا
سب میں بنٹے گا بھئی سب میں بنٹے گا

Nawaz Januu :D haha
ReplyDeleteYou write awesome!
ReplyDeletethank you so much.
Delete